چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بیوی کی دو شناختوں کے متعلق حقائق ریکارڈ پر لانے کے بعد بیرسٹر شہزاد اکبر نے چیلنج کی


Thursday, September 19th 2024, 09:21 PM

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بیوی کی دو شناختوں کے متعلق حقائق ریکارڈ پر لانے کے بعد بیرسٹر شہزاد اکبر نے چیلنج کیا کہ قاضی برطانیہ کی عدالتوں میں ان حقائق کو جھوٹ ثابت کر کے دکھائیں۔ بیرسٹر شہزاد اکبر نے انکشاف کیا کہ سپین کی شہریت رکھنے والی زرینہ مونسٹریاٹ کھوسو کریرا نے جب بھی وزارت داخلہ میں ویزے کے لیے اپلائی کیا تو بیان حلفی میں یہ سچ چھپایا کہ ان کے پاس پاکستان کی شہریت بھی ہے۔ اگر کسی غیر ملکی خاتون نے فیملی کی بنیاد پر ویزہ اپلائی کیا ہو تو بیوی کے بیانِ حلفی کے ساتھ شوہر بھی بیانِ حلفی میں یہ اقرار کرتا ہے کہ اس نے اپنی غیرملکی بیوی کے متعلق ہر بات سچ بیان کی ہے اور کوئی حقیقت نہیں چھپائی ہے۔ بیگم سرینا عیسیٰ نے اپنے بیانِ حلفی میں ہمیشہ یہ بات چھپائی کہ سپین کی شہریت کے ساتھ ان کے پاس پاکستان کی شہریت بھی ہے۔ بیرسٹر شہزاد اکبر کے تہلکہ خیز ویلاگ کا کلائمیکس یہ ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جب بھی بیوی کے ویزہ کی درخواست کے ساتھ اپنا بیانِ حلفی جمع کروایا تو اس میں پاکستان سٹیزن ایکٹ کے تقاضوں کے برعکس ہمیشہ یہ حقیقت چھپائی کہ ان کی سپینش بیوی زرینہ مونسٹریاٹ کھوسو کریرا کا ایک اور نام سرینا عیسیٰ ہے جو پاکستان کی شہریت بھی رکھتی ہے یعنی اس کے پاس پاکستان کا قومی شناختی کارڈ بھی ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ کا یہ بیان حلفی جج کے حلف اور ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے ساتھ ایک فوجداری جرم بھی ہے جس کی بابت ایف آئی اے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رضوان شہید نے دستاویزوں شواہد کے ساتھ وزارت داخلہ کو اپنی رپورٹ بھی جمع کروائی تھی۔ ڈاکٹر رضوان شہید کی یہ رپورٹ بھی قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر ریفرنس کا حصہ تھی جو اب بھی سپریم کورٹ کے ریکارڈ میں موجود ہو گی۔ بیرسٹر شہزاد اکبر نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے ڈاکٹر رضوان شہید کی وزارت داخلہ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے پروٹوکول آفیسر سرینا عیسیٰ کی ویزا درخواست کا فالو اپ لینے وزارت داخلہ آتے تھے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایک غیرقانونی، غیرآئینی اور مجرمانہ کام کے لیے بطور جج سپریم کورٹ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے تھے۔ یاد رہے کہ پاکستان اور سپین کے درمیان دہری شہریت کا معاہدہ موجود نہیں ہے۔ پاکستان سٹیزن ایکٹ کے تحت سرینا عیسیٰ پر لازم تھا کہ اگر وہ سپین کی شہریت کو پاکستان کی شہریت پر ترجیح دیتی ہیں تو وہ پاکستان کی شہریت سے دستبردار ہو جاتیں اور اپنا قومی شناختی کارڈ نادرا کو واپس جمع کروا دیتیں جو انہوں نے نہیں کیا اور اس طرح وہ فوجداری جرم کی مرتکب ہوئیں۔ اب آپ سوچیں کہ نواز شریف کے ایون فیلڈ فلیٹس کے لیے آف شور کمپنی بنانے کے برعکس قاضی فائز عیسیٰ کو لندن پراپرٹیز خریدنے کے لیے آف شور کمپنی کیوں نہیں بنانی پڑی؟؟؟